![]() |
| Courtesy: Gemini |
رمضان میں تراویح اور لاؤڈ اسپیکر: مسلکِ اعلیٰ حضرت کی روشنی میں رہنمائی اور صحت پر اثرات
رمضان المبارک عبادت، صبر اور انسانیت کا مقدس مہینہ ہے۔ اس پاک مہینے میں تراویح کی نماز میں قرآن پاک سننا ہر مسلمان کے لیے ایمان کا حصہ ہے۔ لیکن موجودہ دور میں لاؤڈ اسپیکر کا بے جا استعمال اور اس کے متعلق شرعی و سماجی سمجھ بوجھ پر گفتگو کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔
۱. مسلکِ اعلیٰ حضرت اور لاؤڈ اسپیکر پر نماز
شرعی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو مسلکِ اعلیٰ حضرت (امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ) کے اصولوں کے مطابق لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھانے کی ممانعت ہے۔ فقہائے کرام اور اعلیٰ حضرت کے فتاویٰ کی روشنی میں لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر اقتداء کرنے کے معاملے میں سخت احتیاط کا حکم دیا گیا ہے۔
۲. آواز کی سائنسی حد اور ڈیسیبل (dB)
جب اسپیکر کی آواز ضرورت سے زیادہ رکھی جاتی ہے تو وہ 'صوتی آلودگی' بن جاتی ہے۔ آواز کی شدت کو ماپنے کے لیے 'ڈیسیبل' کا پیمانہ استعمال ہوتا ہے:
- مسجد کے اندر: ۵۰ سے ۶۰ ڈیسیبل آواز کافی ہے۔
- نقصان دہ حد: ۸۵ ڈیسیبل سے اوپر کی آواز سننے کی قوت کو کم کر دیتی ہے۔
- خطرناک حد: ۱۱۰ ڈیسیبل کی آواز کان کے پردوں کو فوری اور مستقل نقصان پہنچا سکتی ہے۔
۳. ہر عمر کے فرد پر ہونے والے اثرات
| عمر | اثرات |
|---|---|
| بچے | نازک کانوں کو نقصان، نیند میں خلل اور خوف۔ |
| طلباء | پڑھائی پر توجہ کی کمی اور ذہنی دباؤ۔ |
| بزرگ اور بیمار | بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن پر اثرات۔ |
۴. ٹرسٹیز اور ساؤنڈ آپریٹر کی ذمہ داری
تراویح شروع ہونے سے پہلے مسجد کے ذمہ داران کو ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:
- آواز کی جانچ: مسجد کے اندر کھڑے ہو کر آواز چیک کریں کہ وہ کانوں کو چھبنے والی تو نہیں؟
- تکنیکی سمجھ: آواز سیٹ کرنے والے شخص کو معلوم ہونا چاہیے کہ آواز کتنے ڈیسیبل پر ہے۔
- حقوق العباد: دوسروں کو تکلیف دے کر کی جانے والی عبادت اپنی روح کھو دیتی ہے۔
"عبادت دلوں کو جوڑنے اور سکون دینے کے لیے ہے، دوسروں کو تکلیف دینے کے لیے نہیں۔"

0 ટિપ્પણીઓ