Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Responsive Advertisement

روزہ: روحانیت اور سائنس کا سنگم

 

Courtesy: Gemini 

رمضان المبارک: روحانیت اور سائنس کا حسین سنگم

رمضان المبارک کے روزے جہاں روح کی بالیدگی کا ذریعہ ہیں، وہیں جدید میڈیکل سائنس بھی اس کے حیرت انگیز طبی فوائد کا اعتراف کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہر حکم حکمت سے لبریز ہے، اور روزہ اس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔

۱. آٹوفیجی (خلیوں کی صفائی)

جدید تحقیق (Autophagy) کے مطابق، جب انسان طویل وقت تک بھوکا رہتا ہے، تو جسم کے اندر ایک ایسا نظام فعال ہو جاتا ہے جو زہریلے مادوں اور کینسر پیدا کرنے والے مردہ خلیوں کو خود ہی ختم کر دیتا ہے۔ یہ عمل جسم کی اندرونی صفائی کے لیے ناگزیر ہے۔

۲. دماغی صحت اور یکسوئی

روزے کے دوران دماغ میں BDNF نامی پروٹین کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جو نئے خلیوں کی نشوونما اور یاداشت کی بہتری میں مددگار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزے دار کو ایک خاص قسم کا ذہنی سکون اور روحانی یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔

۳. قلب کی مضبوطی

روزہ رکھنے سے خون میں برا کولیسٹرول کم ہوتا ہے اور شریانوں کی سوزش میں کمی آتی ہے، جس سے بلڈ پریشر متوازن رہتا ہے اور دل کے امراض کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے۔

۴. اکابرینِ نقشبند کا نظریہ

حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ رمضان تمام برکات کا سرچشمہ ہے۔ جب نفس بھوکا ہوتا ہے تو روح کو غذا ملتی ہے اور انسان کا باطن ذکرِ الٰہی کے نور سے منور ہو جاتا ہے۔


پیشکش:

پیر سَیّد اِیساک میاں اَل عَبّاسی اَل ہاشِمی

خانقاہِ عالیہ نقشبندیہ چشتیہ صابریہ اشرفیہ، سارہ باغ، بھج - کچھ

ટિપ્પણી પોસ્ટ કરો

0 ટિપ્પણીઓ